کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینئر ثروت اعجاز قادری، مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری اور مرکزی سیکریٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کے موقع پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شجرہ نسب پانچویں پشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔
محرم الحرام کے لیے واٹر بورڈ کے خصوصی انتظامات، سی ای او کی تمام متعلقہ افسران کو ہدایات
ان رہنماؤں نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو "ذوالنورین” کا عظیم لقب حاصل ہے کیونکہ انہیں نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے یکے بعد دیگرے نکاح کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا تعلق مکہ کے رئیس اور مالدار قریشی خاندان سے تھا۔ قبول اسلام کے بعد آپ کو خاندان کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے دین اسلام سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ: "میرے جسم کے ٹکڑے کر دو، یہ ہو سکتا ہے، مگر میرے دل سے اسلام نہیں نکالا جا سکتا۔”
بلال عباس قادری نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی اشاعت اور تدوین میں تاریخی کردار ادا کیا، جو امت مسلمہ پر ان کا عظیم احسان ہے۔ آپ نے بئر رومہ جیسے قیمتی کنویں کو خرید کر عوام کے لیے وقف کیا اور غزوہ تبوک کے موقع پر تین سو اونٹ بمعہ ساز و سامان عطیہ کر کے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنی جان و مال سے وفاداری کا ثبوت دیا۔
مرکزی سیکریٹری جنرل بلال سلیم قادری نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کی خاطر اپنے مال، وقت اور جان سب کچھ قربان کر دیا۔ مسجد نبوی کی توسیع سے لے کر غلاموں کی آزادی تک، ہر شعبہ میں آپ نے فلاح انسانیت اور دین کی خدمت کو مقدم رکھا۔ آپ کی سخاوت، تواضع، حیاء اور دین سے محبت آج کے مسلمانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
پاکستان سنی تحریک کے قائدین نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نوجوان نسل ان کے کردار سے رہنمائی حاصل کرے۔ انہوں نے یوم شہادت کے موقع پر امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ خلفائے راشدین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں۔
