اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی اور "ہارڈن دی اسٹیٹ” کمیٹی کا تیسرا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں موجود غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمشنر کراچی کا ضلع کیماڑی و جنوبی کا دورہ، پولیو مہم پر اطمینان کا اظہار، ورکرز کو خراج تحسین
وزیر داخلہ نے نادرا کو ہدایت کی کہ ایگزٹ پوائنٹس پر لائیو ڈیٹا ویریفیکشن کی سہولت فراہم کی جائے، جبکہ تمام اداروں کو مل کر "ون ڈاکومنٹ سسٹم” مکمل طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھکاری مافیا کی سرکوبی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور گداگری کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دینا ضروری ہے۔
وزارت توانائی کی جانب سے بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 142 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزانہ 250 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔ گوادر سیف سٹی منصوبے، پروٹیکشن وال، پاکستان پورٹ اتھارٹی کے قیام اور دریائے سندھ پر ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
مزید برآں، موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم پر کام جاری ہے، اور غیر قانونی و سمگلڈ پٹرول کی روک تھام کے لیے پٹرول پمپس کی ڈیجیٹلائزیشن کی جا رہی ہے۔ نئے قانون کے تحت کسٹمز اور ڈپٹی کمشنرز کو پمپ سیل اور گاڑیاں ضبط کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
اجلاس میں وزیر مملکت طلال چوہدری، پنجاب کے وزیر قانون صہیب بھرت، خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
