تحریر: عقیل اختر
برِصغیر میں قیامِ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سب سے اہم مسئلہ پانی کی تقسیم کا ہے۔
بھارت خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار، پاکستانی قوم دفاع کیلئے متحد ہے: ثروت اعجاز قادری
سن 1960ء میں انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ دریائے راوی، ستلج اور دریائے بیاس بھارت کو دیے گئے۔ یہ معاہدہ خطے کے استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا تھا کیونکہ پاکستان کی زراعت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ لیکن اب بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان، نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک بڑے اور ممکنہ طور پر ایٹمی تصادم کی راہ ہموار کرنے کا اقدام بھی ہے۔بھارت کے اس اعلان کے بعد پاکستان کے پاس محدود راستے رہ گئے ہیں۔
ایک طرف سفارتی کوششیں اور عالمی برادری کی مداخلت کی امید، اور دوسری طرف آخری حربے کے طور پر جنگ۔ اگر بھارت اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کا پانی روک لیتا ہے تو پاکستان زرعی، معاشی اور انسانی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ ایسے میں پانی کے لیے جنگ ہو گی، وہ پانی جو حیات ہے اور جس کے بغیر یہ سرزمین بنجر ہو جائے گی۔فوجی طاقت کے اعتبار سے اگرچہ بھارت کو عددی برتری حاصل ہے لیکن جنگ محض اعداد کی نہیں، حکمت عملی، جذبے، اور جدید ٹیکنالوجی کی لڑائی ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت جنوبی ایشیا کا جدید اور مستعد فضائی نظام موجود ہے۔ پاکستان ائر فورس نے حالیہ برسوں میں اپنی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 جیسے جدید جنگی طیارے، راڈار جیمنگ سسٹم، اور فضائی برتری کے لیے ایڈوانس میزائل سسٹم پاکستان کو ایسی برتری دیتے ہیں کہ جس کا بھارت کے پاس کوئی موثر توڑ موجود نہیں۔پاکستان کی ائر فورس نے 2019ء کی کشیدگی میں بھی ثابت کیا تھا کہ وہ نہ صرف دشمن کے حملے کو روکتی ہے بلکہ بھرپور جوابی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کا جدید ترین رافیل طیارہ بھی پاکستانی فضائی نظام کے سامنے فیصلہ کن برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جنگ کی صورت میں پاکستان کی فضائیہ نہ صرف فضائی دفاع کو محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ دشمن کے اہم تنصیبات پر بھرپور حملے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا میزائل پروگرام جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
پاکستان کے پاس مختصر فاصلے سے لے کر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں۔ غوری، شاہین، ابدالی، رعد، بابر، اور نصر جیسے جدید میزائل بھارت کے کسی بھی کونے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً تیکنیکی ایٹمی ہتھیار جو مختصر فاصلے پر دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، پاکستان کے اسٹریٹیجک ڈیٹرنس کا اہم حصہ ہیں۔ماہرین عسکریات کا ماننا ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت کی بڑی فوجی تعداد اور بھاری زمینی سازوسامان کو پاکستانی فضائیہ اور میزائل حملوں کے زریعے شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ چونکہ پاکستان کی جنگی حکمت عملی محدود اور موثر حملوں پر مشتمل ہے،
اس لیے وہ دشمن کی صفوں میں فوری خلل ڈالنے اور جنگ کے دائرہ کار کو بڑھنے سے پہلے ہی اسے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن جو پاکستان کی سرحد کے اندر محدود جنگ کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، اس وقت ناکام ہو جائے گا جب پاکستان تیکنیکی ہتھیاروں اور فضائی برتری کے زریعے فوری اور کاری ضربیں لگائے گا۔معاشی لحاظ سے اگرچہ بھارت کو برتری حاصل ہے، لیکن جنگ محض معیشت کا کھیل نہیں۔ پاکستان کی دفاعی معیشت، محدود وسائل میں موثر حکمت عملی بنانے کی مہارت رکھتی ہے۔ چین کی ممکنہ حمایت اور عرب دنیا کا اخلاقی و سفارتی تعاون پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتا ہے۔ایٹمی تصادم کا خطرہ اس خطے کے لیے سب سے بڑا المیہ ہے۔
دونوں ممالک کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہے، لیکن پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی بھارت کی عددی برتری کو ختم کر دیتی ہے۔ پاکستان کا جدید ایٹمی نظام اور موبائل لانچنگ سسٹم بھارت کو کسی بھی بڑے حملے سے باز رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جنگ کی صورت میں دونوں ممالک ناقابلِ تلافی نقصان اٹھائیں گے۔ لاکھوں انسانی جانیں، معیشتیں اور ماحولیاتی نظام تباہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر بھارت نے پانی جیسے بنیادی حق پر حملہ کیا، تو پاکستان کے پاس اپنی بقاء کے لیے آخری راستہ جنگ ہی ہو گا۔ عالمی برادری کو اس حساس اور نازک صورتحال میں فوری مداخلت کرنی چاہیے، ورنہ جنوبی ایشیا کا یہ تصادم پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گا۔اگر جنگ چھڑتی ہے تو اس کا فیصلہ میدان جنگ میں نہیں بلکہ فضاؤں اور میزائلوں کی برتری سے ہو گا، ماہرین کے مطابق پاکستان کی فضائی قوت اور میزائل ڈیفنس لائن وہ طاقت ہے جس کا بھارت کے پاس توڑ نہیں۔ یہی حقیقت بھارت کو کئی بار محدود رکھنے اور مذاکرات پر مجبور کرنے کا سبب رہی ہے، اور آئندہ بھی یہی توازن جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
