وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ڈیولپمنٹ ورکس پر اجلاس

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ، صوبائی وزیر ورکس حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی، سیکریٹری ورکس محمد علی کھوسو، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، سیکریٹری زبیر چنا اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔

کورنگی میں آگ اور گیس اخراج کا سنگین واقعہ – امریکی ماہرین کی مدد طلب، تحقیقات جاری

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ کل وہ ٹھٹھہ گئے تھے جہاں عوام نے منصوبے پر کام تیز کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ کوسٹل ہائی وے کی سڑک کی کل لمبائی 36 کلومیٹر ہے اور اس وقت اس پر کام ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں نظر ثانی کے لیے تجاویز بھی ارسال کی جا چکی ہیں۔ اس اسکیم کو وفاقی اور صوبائی حکومت مشترکہ طور پر 50 فیصد حصے سے مکمل کر رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ٹریفک کی سہولت فراہم کرے گا بلکہ سمندر کے آگے بڑھنے سے بھی روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اسی اجلاس میں سائٹ روڈز کے بارے میں بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائٹ انڈسٹریل اسٹیٹ کراچی کے روڈ کی تعمیر کے لیے 5 بلین روپے کی اسکیم منظور کی گئی ہے اور اس اسکیم کے لیے 500 ملین روپے جاری ہو چکے ہیں۔ اس روڈ کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت دی تاکہ نئے سال میں یہ روڈ مکمل ہوسکے۔

اس کے بعد اجلاس میں پی ایم پروگرام کے تحت اسکولوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سیلاب سے تباہ شدہ 1800 اسکولز کی تعمیر کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت 50 فیصد کی مشترکہ فنڈنگ فراہم کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کے لیے 12 بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے اور اس پر ٹینڈرز بھی ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اسکولوں کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کرنے کا عمل جلد شروع کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں روہڑی سے گڈو بیراج کی تعمیر کے منصوبے پر بھی بات کی گئی۔ اس منصوبے کے تحت روہڑی سے گڈو بیراج تک M-5 انٹرچینج کی تعمیر کی جائے گی، جس کی کل لمبائی 150 کلومیٹر ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 18.8 بلین روپے ہے اور ٹینڈر بھی ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس منصوبے کے لیے 5 بلین روپے جاری کرنے کی ہدایت دی۔

اسی طرح ٹنڈو الہیار سے ٹنڈو آدم روڈ کی ڈویلائزیشن پر بھی بات کی گئی جس کا 31.40 کلومیٹر کا کام کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 9.2 بلین روپے ہے اور اس کے ٹینڈرز ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس منصوبے کے لیے 1 بلین روپے فوری جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ کام شروع کیا جا سکے۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ڈیولپمنٹ ورکس پر اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!