سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی اور تبادلوں کے حوالے سے دائر آئینی درخواستوں پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے۔
اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنوں کی ضمانتیں مسترد کر دیں
سماعت کے آغاز پر جسٹس مظہر نے بتایا کہ عدالت کے سامنے سات مختلف درخواستیں ہیں، جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے ججز کی درخواستوں کو سنا جائے۔
سنیارٹی اور ججز کے تبادلوں کے نازک معاملے پر وکیل منیر اے ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا اعتراض دونوں نکات پر ہے: ایک ججز کا تبادلہ، دوسرا سنیارٹی کی تبدیلی۔ عدالت نے آرٹیکل 200 کے تحت تبادلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے۔ جسٹس مظہر نے واضح کیا کہ آئین میں تبادلوں کے لیے مستقل یا عارضی کی کوئی قید نہیں، صرف صدرِ مملکت کا اختیار اور متعلقہ چیف جسٹس صاحبان کی رضامندی ضروری ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایکٹ میں دوسرے ہائی کورٹس سے ججز کا تبادلہ ممکن ہے؟ وکیل نے کہا کہ ایکٹ میں اس کی گنجائش نہیں، صرف نئے ججز کی تقرری کی اجازت ہے۔
سماعت کے دوران سنیارٹی کے تعین پر بھی اہم بحث ہوئی۔ جسٹس مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز کی سنیارٹی ان کے ابتدائی حلف سے شمار کی جاتی ہے، نہ کہ نئے حلف سے۔
عدالت نے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین اور جسٹس محمد آصف کو نوٹسز جاری کیے، تاہم انہیں کام سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔
درخواست گزار وکلاء کی یہ استدعا کہ کیس کو جوڈیشل کمیشن کے 18 اپریل کے اجلاس سے قبل سنا جائے، منظور کر لی گئی، اور کیس کی آئندہ سماعت 17 اپریل کو مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلوں کے بعد ججز کی سنیارٹی لسٹ کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی سمیت پانچ ججز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
