کراچی: کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) اور سوسائٹی آف کورٹ رپورٹرز (ایس سی آر) نے سندھ ہائیکورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو چیلنج کر دیا ہے۔
زمان ٹاؤن پولیس کی بڑی کامیابی: اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کاروائیاں جاری
درخواست گزار اور قانونی نمائندگی
درخواست کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی اور ایس سی آر کے سیکرٹری سکندر بھٹو کی جانب سے دائر کی گئی۔ اس کیس میں ابراہیم سیف الدین، طاہر محمود، اور محسن اعوان ایڈووکیٹس قانونی نمائندگی فراہم کر رہے ہیں۔
فریقین
درخواست میں وفاق پاکستان، وزارت قانون، وزارت اطلاعات و براڈکاسٹنگ، وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی، اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست کی اہم نکات
ظالمانہ قانون: پیکا ایکٹ کو ایک ظالمانہ قانون قرار دیا گیا ہے جو آزادی اظہار اور رائے پر قدغن لگاتا ہے۔
آئینی خلاف ورزی: درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پیکا ایکٹ آئین کے آرٹیکل 8، 9، 10-اے، 18، 19 اور 19-اے کی خلاف ورزی ہے۔
خبر کے ذرائع: پیکا کے تحت صحافیوں کو اپنے خبر کے ذرائع افشا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو قابل قبول نہیں۔
اسلامی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی: پیکا قانون اسلامی اصولوں اور بین الاقوامی معاہدات، خصوصاً آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 19، کے بھی منافی ہے۔
غیر جانبداری پر سوال: پیکا کے تحت بننے والے ٹریبونل کا چیئرمین اور ممبران انتظامیہ کے زیر اثر ہوں گے، جس کے باعث ان کے فیصلے غیر جانبدارانہ نہیں ہوں گے۔
مطالبہ
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔
