کراچی غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران و ملازمین کے خلاف عدالت کی جانب سے مختلف احکامات سامنے آ رہے ہیں

کراچی تشکُّر نیور( رپورٹ: جاوید الرحمٰن خان) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی SBCA کو اس وقت عدالت عالیہ سندھ نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران و ملازمین کے خلاف عدالت کی جانب سے مختلف احکامات سامنے آ رہے ہیں، جن پر بظاہر ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے عملدرآمد بھی کرتے نظر آ رہے ہیں، مگر سنجیدہ حلقے بجا طور پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ڈی جی ایس بی سی اے عدالت عالیہ سندھ کی ہدایات پر واقعتاً عمل پیرا ہیں یا محض دکھاوے کی کارروائیاں کر کے معزز عدالت کی رٹ کا مذاق اڑا رہے ہیں؟ اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے محمد اسحاق کھوڑو کی درخواست پر رواں ماہ 12.12.2023 کو ضلع وسطی (ڈسٹرکٹ سینٹرل) کے علاقے لیاقت آباد میں واقع تھانہ سپر مارکیٹ میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عامر خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقصود علی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض حسین عرف ملا کے خلاف ایف آئی آر نمبر 477/23 درج کی گئی۔ ایف آئی آر کے اندراج کے لئے دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ متذکرہ تینوں افسران نے اپنی تعیناتی کے دوران جعل سازی کرتے ہوئے پلاٹ نمبر 52/2 سی ایریا لیاقت آباد میں 7 منزلہ غیر قانونی عمارت تعمیر کروا دی، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ مذکورہ درخواست پر ایف آئی آر تو درج ہو گئی، مگر کوئی گرفتار بھی ہوا؟ تفتیش ہوئی؟ جوڈیشل ریمانڈ پر کوئی جیل بھی گیا؟ سزا بھی ہو گی یا نہیں؟ ایسے بہت سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے جواب سامنے آنا باقی ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث دیگر افسران و ملازمین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہیں، یہ سب کچھ یقیناً عدالت عالیہ سندھ کے احکامات کی تعمیل میں ہو رہا ہے، تاہم مقصد صرف عدالت کو مطمئن کرنے کی غرض سے دکھاوے کی حد تک ایف آئی آر کا اندراج نہ ہو، بلکہ ایمان دارانہ اور شفاف تفتیش کر کے قصور واروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ہونا چاہئے، تاکہ دیگر کرپٹ افسران و ملازمین عبرت حاصل کریں اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!