جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں کوکین کیس سے متعلق ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیش کردیا گیا، جہاں پیشی کے دوران عدالت کے باہر اور راہداری میں صورتحال کشیدہ رہی۔
ملتان کسٹمز میں 3.8 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان تلف، نیلامی کے بجائے تلفی پر شفافیت سے متعلق سوالات اٹھ گئے
پیشی کے موقع پر مبینہ طور پر ایک خاتون پولیس اہلکار پنکی کے منہ پر ہاتھ رکھتی رہی تاکہ میڈیا تک اس کے بیانات نہ پہنچ سکیں۔ اس دوران ملزمہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزامات عائد کیے کہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور اسے ناجائز طور پر مختلف کیسز میں نامزد کیا گیا ہے۔
انمول عرف پنکی نے عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسٹڈی کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے زبردستی بیانات دلوائے گئے۔ ملزمہ کے مطابق اسے تقریباً 22 دن قبل لاہور سے حراست میں لیا گیا تھا۔
عدالت میں سماعت کے دوران صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب میڈیا کے ایک حصے کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور ابتدائی طور پر ایک دوسری خاتون کو پنکی کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کنفیوژن پیدا ہوئی۔
بعد ازاں اصل ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے دوبارہ اپنے اوپر تشدد اور جھوٹے مقدمات کے الزامات دہرائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ کارروائی کے لیے ہدایات جاری کیں۔
پولیس حکام کی جانب سے اس حوالے سے مؤقف سامنے نہیں آیا۔
