پاکستان کسٹمز نے 3.8 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان تلف کردیا ہے، جس میں موبائل فونز، امپورٹڈ سگریٹس، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔
بارش میں کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت، عدالت کا کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
کسٹمز حکام کے مطابق کارروائی پاکستان کسٹمز قوانین کے تحت کی گئی، جن کے مطابق ممنوعہ، مضر صحت، جعلی یا خطرناک اشیاء کو تلف کیا جا سکتا ہے، تاہم قابل استعمال سامان کی شفاف نیلامی کی بھی قانونی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
تاہم اس بڑی کارروائی کے بعد سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ اگر تلف کیے گئے سامان میں قابل استعمال اشیاء شامل تھیں تو انہیں نیلام کرکے قومی خزانے میں اربوں روپے جمع کیوں نہیں کروائے گئے۔
ماہرین کے مطابق کسٹمز قوانین میں نیلامی کے ذریعے ریونیو جنریشن کا واضح طریقہ موجود ہے، جس سے نہ صرف سرکاری آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ شفافیت بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
شہری حلقوں اور مبصرین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا تلفی کے دوران مکمل انوینٹری، ویڈیو ریکارڈنگ اور تھرڈ پارٹی نگرانی موجود تھی یا نہیں، اور کیا اس بات کی مکمل یقین دہانی دی جا سکتی ہے کہ تمام سامان واقعی ضائع کردیا گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں “تلف شدہ” سامان بعد میں مارکیٹوں میں دستیاب پایا گیا، جس کے باعث اس عمل کی شفافیت پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں یہ تجویز بھی دی جا رہی ہے کہ قابل استعمال سامان کو تلف کرنے کے بجائے باقاعدہ نیلامی کے ذریعے قومی خزانے کو زیادہ فائدہ پہنچایا جائے تاکہ شفافیت اور ریونیو دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
