واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے میڈیا سے گفتگو میں ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کو تاریخی اور شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کو فوری جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا اور اب امن کے لیے حقیقی موقع پیدا ہو گیا ہے۔
گارڈن: 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی اور ایک فیصلہ کن آپریشن کے ذریعے ایران کی عسکری اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی فوجی طاقت کا صرف 10 فیصد استعمال کیا، ایران کی اسلحہ ساز فیکٹریاں، فضائیہ اور نیوی کو تباہ کیا گیا، اور سیکڑوں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ کر دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی دفاعی، عسکری اور انٹیلیجنس قیادت بھی ختم کر دی گئی اور ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 38 روزہ آپریشن کے دوران امریکا نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ آپریشن کے دوران 13 امریکی فوجیوں نے قربانی دی جبکہ 520 اہلکار ایرانی حملوں میں زخمی ہوئے۔ جنرل کین نے پائلٹ ریسکیو مشن کی تفصیلات بھی بتاتے ہوئے کہا کہ 155 طیارے شریک تھے اور دشمن کے علاقے سے پائلٹ کو بحفاظت نکالا گیا۔ ریت میں پھنسے امریکی طیاروں کو دشمن کے ہاتھ نہ لگنے دینے کے لیے خود تباہ کیا گیا، جسے انہوں نے ’عسکری معجزہ‘ قرار دیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تقریباً 90 فیصد نقصان پہنچایا گیا اور ایران مزید امریکی حملوں کے خطرے سے دوچار ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایک بھی میزائل فائر کیا تو امریکی طیارے دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور انہوں نے اس کامیابی کو صدر ٹرمپ کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی پالیسی کا ثبوت قرار دیا۔
