کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی پراپرٹی کے سرکاری ریکارڈ میں مبینہ رد و بدل کے ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ایسٹ) نے اہم کارروائی کرتے ہوئے سابق سب رجسٹرار کو گرفتار کر لیا۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق یہ کارروائی شہر کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک-2 میں واقع پراپرٹی نمبر 887-889-C سے متعلق کی گئی، جہاں ابتدائی تحقیقات کے دوران سنسنی خیز حقائق سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے ملی بھگت سے پراپرٹی کا اصل سرکاری ریکارڈ غائب کر کے اس کی جگہ جعلی سیل ڈیڈ شامل کی، جس کی بنیاد پر نہ صرف سرچ سرٹیفکیٹ بلکہ ٹرُو کاپی بھی حاصل کر لی گئی۔
حکام کے مطابق کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن (ایسٹ) محمد یونس رند کی نگرانی میں انجام دی گئی، جبکہ مقدمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبیٰ سرور عباسی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران مرکزی ملزم عمران الحق کو گرفتار کر لیا گیا، جو جمشید ٹاؤن 2 کا ریٹائرڈ سب رجسٹرار ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپنے دورِ ملازمت کے دوران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی۔ مقدمے میں عزیر درانی اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام نے ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 34 کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن ایکٹ 5(2) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سب رجسٹرار دفاتر سے ریکارڈ کی گمشدگی پر سخت برہمی کے بعد شروع کی گئی وسیع انکوائری کا حصہ ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محمد یونس رند نے اس موقع پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ریکارڈ، خواہ دستی ہو یا ڈیجیٹل، میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں، خصوصاً ریونیو اور لینڈ ریکارڈ دفاتر کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، بصورت دیگر کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
