کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک میں آئیڈیل آزادی صحافت کے قیام کے لیے معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے، جبکہ ریاست اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل کے حل کو یقینی بنائیں۔
وہ جمعرات کو کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں منعقدہ صوبائی کنونشن برائے میڈیا قوانین، ریگولیشن اور اخلاقیات سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ کنونشن میں سینیٹر میاں رضا ربانی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ، سیکریٹری جنرل حسن انصاری، کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان، ناصر زیدی، مظہر عباس، توصیف خان، حبیب الدین جنیدی، مصطفیٰ قریشی اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔
تقریب میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی، پی ٹی آئی کے زبیر احمد، ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد، ڈائریکٹر انفارمیشن سندھ ماجد خان سمیت صحافتی تنظیموں کے نمائندگان اور بڑی تعداد میں صحافی شریک ہوئے۔
سعید غنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقیقی جمہوریت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عدلیہ، میڈیا اور پورا معاشرہ آزاد نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینز، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سمیت تمام اداروں کی آزادی جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا کیونکہ اگر ہم اپنا کردار درست طریقے سے ادا نہیں کرتے تو درست سمت میں پیش رفت ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ میڈیا مالکان کو دی جانے والی سہولیات کے ثمرات میڈیا ورکرز تک پہنچانے کو یقینی بنائیں۔
سعید غنی نے کہا کہ میڈیا کا بنیادی کردار ان طبقات کی آواز بننا ہے جن کی آواز کہیں نہیں پہنچتی، لہٰذا میڈیا کو اپنے اس فریضے کو مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔
کنونشن کے میزبان اور کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ اس وقت میڈیا کو درپیش چیلنجز کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن کا مقصد صحافیوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
مقررین نے پیکا قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ ملک میں درجنوں ایسے قوانین موجود ہیں جو میڈیا کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر بڑھتی پابندیاں صحافت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں اور ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ایک منظم انداز میں صحافتی تنظیموں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ صحافی متحد نہ ہو سکیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور میڈیا پر عائد غیر ضروری پابندیوں کو ختم کیا جائے۔
