کراچی (اسٹاف رپورٹر) – ایف آئی اے امیگریشن نے سعودی عرب میں کام کرنے والے منظم بھکاری نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے، جس میں رقوم کی منتقلی حوالہ ہنڈی کے ذریعے کی جاتی تھی۔ کراچی پہنچنے والے مسافروں محمد جمیل اور گڑیا بی بی (فیصل آباد) کو دوران کلیئرنس مشکوک بنیادوں پر روکا گیا۔
پاکستان میں مارچ 2026 میں مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ دونوں مسافر عمرہ ویزہ پر سعودی عرب گئے تھے۔ دوران تفتیش انہوں نے جہلم کے ایجنٹ کشمیر علی کے ذریعے سفر کرنے کا اعتراف کیا۔ مزید تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ نیٹ ورک سعودی عرب میں بھیک مانگ کر رقوم اکٹھی کرتا اور پھر حوالہ ہنڈی کے ذریعے کینیڈا میں موجود ایجنٹ کو منتقل کرتا تھا۔
تفتیش کے مطابق ملزمان نے سہولت کار افتخار عرف "وکیل” کا نام بھی ظاہر کیا، جو مختلف ممالک میں افراد کو بھیک مانگنے کے لیے بھجواتا تھا۔ دوران تفتیش ایک بینک اکاؤنٹ بھی سامنے آیا، جس کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی جاتی رہی۔
حکام نے بتایا کہ ملزمان کے موبائل فونز سے رسیدیں اور وائس نوٹس بھی برآمد ہوئے ہیں۔ دونوں مسافروں کو حراست میں لے کر مزید کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کارروائی سعودی عرب اور کینیڈا میں بھکاری نیٹ ورک کی بین الاقوامی مالی سرگرمیوں کے خلاف اہم پیش رفت ہے، اور اس سے دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی شناخت میں مدد ملے گی۔
