کراچی، 31 مارچ 2026 – انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو کی سربراہی میں سندھ پولیس میوزیم کو جدید تقاضوں کے مطابق اپگریڈ کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، سی پی ایل سی چیف ذبیر حبیب کے علاوہ سابق آئی جیز اور ڈی آئی جیز نے بھی شرکت کی۔
گڈاپ: مردہ جانور کا گوشت فروخت کرنے والا ملزم گرفتار
اجلاس کے دوران میوزیم کے کیوریٹر سعود مرزا نے شرکاء کو میوزیم کے قیام، اغراض و مقاصد، نادر اشیاء، تاریخی ہتھیار، دستاویزات، تصاویر اور دیگر ممالک کے پولیس میوزیمز کے ماڈلز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کیوریٹر نے بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم 2009 سے مسلسل میوزیم کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہیں، اور میوزیم 2017 میں مکمل ہو کر عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
میوزیم کی لائبریری میں 1865 سے 1940 تک کے نایاب اور قیمتی قانونی و تاریخی دستاویزات محفوظ ہیں، جو ایک اہم علمی سرمایہ ہیں۔ کیوریٹر نے ریٹائرڈ ملازمین اور حاضر سروس افسران سے اپیل کی کہ وہ اپنی نایاب دستاویزات، تصاویر اور یادگاریں میوزیم کے لیے عطیہ کریں تاکہ میوزیم کی اپگریڈیشن مؤثر طور پر کی جا سکے۔
انسپکٹر جنرل سندھ نے اجلاس کے دوران کہا کہ سندھ پولیس میوزیم نہ صرف پولیس کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے بلکہ پولیس کی مثبت شبیہہ عام کرنے اور نوجوان نسل کو پولیس کی خدمات سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے میوزیم کو ایک تعلیمی اور تحقیقی مرکز بنایا جائے گا۔
انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ سندھ پولیس کی قربانیوں اور خدمات کو محفوظ کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور میوزیم نوجوان نسل کے لیے ایک مؤثر تعلیمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
