کراچی (26 مارچ 2026) – متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اختیارات کی منتقلی اور سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں رائج وڈیرہ شاہی جمہوریت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کراچی میں سینیٹر شیری رحمان سے تعزیت
ڈاکٹر فاروق ستار نے واضح کیا کہ صرف 1200 منتخب نمائندے پورے ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتے، اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر بلدیاتی نظام ادھورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میئرز اور ٹاؤن ناظمین کو مالیاتی اور انتظامی طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ شہری مسائل بروقت حل ہوسکیں۔
ایڈووکیٹ طارق منصور نے عدالت کے باہر میڈیا کو بتایا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے حوالے سے قانونی جنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ کیس کی حساسیت اور عوامی مفاد کے پیش نظر ایک لارجر بینچ یا فل بینچ تشکیل دیا جائے تاکہ دیرینہ مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تاخیر سے کام لے رہی ہے اور ابھی تک اپنا تحریری جواب جمع نہیں کرایا، جو عدالتی عمل میں رکاوٹ ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان بلدیاتی اداروں کی خودمختاری کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ بااختیار بلدیاتی نظام ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 140-A کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو ان کے آئینی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تاکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو روکا جا سکے۔
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی لیگل ایڈ کمیٹی انچارج محمد جیوانی، دیگر قانونی ماہرین اور حق پرست ارکین صوبائی اسمبلی سمیت مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
