ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے تسلسل نے اسرائیل کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ موجودہ مرحلے پر حکومت کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب جنگ طویل المدتی شکل اختیار کرے گی اور اس کے اثرات فوجی، معاشی اور سماجی ڈھانچے پر نمایاں ہوں گے۔
عوامی حمایت بمقابلہ طویل جنگ
کنول فاروق شادی سے ایک رات قبل گھر چھوڑ گئیں
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی شہروں خصوصاً تل ابیب اور حیفا میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سائرن کی آوازیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ اسکولوں کی بندش، عوام کی پناہ گاہوں میں منتقلی اور ریزرو فوجیوں کی بڑے پیمانے پر طلبی نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس مرحلے پر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے، جس سے قومی اتحاد کا تاثر مضبوط ہوا ہے۔ تاہم بعض دانشور خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ کئی ماہ تک جاری رہی تو سماجی تقسیم میں اضافہ اور داخلی سیاسی کشیدگی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔
دفاعی نظام پر دباؤ
ایران کی جانب سے ابتدائی دنوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے گئے، جنہیں روکنے کے لیے اسرائیل نے اپنے کثیر سطحی دفاعی نظام کو متحرک کیا۔ یہ نظام تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہے:
آئرن ڈوم — قلیل فاصلے کے راکٹوں کو تباہ کرنے کے لیے
ڈیوڈ سلنگ — درمیانے فاصلے کے میزائلوں کے خلاف
ایرو-3 — طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر میزائل حملوں کی رفتار برقرار رہی تو اسرائیل کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکا کی جانب سے سپلائی میں تاخیر یا کمی واقع ہوئی۔ ایسی صورتحال میں دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ناگزیر ہوگا۔
معاشی اثرات اور مالی دباؤ
دو سال سے زائد عرصے سے مختلف محاذوں پر جاری کشیدگی، خصوصاً لبنان اور غزہ میں ہونے والی کارروائیوں نے اسرائیلی معیشت کو پہلے ہی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ جنگی اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ ریزرو فوجیوں کی طویل تعیناتی کے باعث لیبر مارکیٹ اور صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے اسرائیل کی خودمختار ریٹنگ میں کمی سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تنازع کئی ہفتوں سے بڑھ کر مہینوں تک جاری رہا تو بجٹ خسارہ اور قومی قرضوں کا حجم مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عام شہریوں تک منتقل ہوں گے۔
طویل جنگ کے امکانات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا مسلسل عسکری، مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا رہا تو اسرائیل طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم دفاعی ذخائر میں کمی یا شہری نقصانات میں اضافہ عوامی رائے کو متاثر کر سکتا ہے، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔
نتیجہ
فی الوقت اسرائیل میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر قومی سطح پر حمایت موجود ہے، لیکن جنگ کی طوالت کا انحصار دفاعی صلاحیت، امریکی معاونت اور معاشی برداشت پر ہوگا۔ اگر یہ تنازع طویل المدتی شکل اختیار کرتا ہے تو اسرائیل کو نہ صرف فوجی محاذ پر بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
