وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسوسی ایشن کے وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں ایکسل لوڈ قوانین پر عملدرآمد، قومی شاہراہوں کے تحفظ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارت سیمی فائنل میں، ویسٹ انڈیز ایونٹ سے باہر
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے ایکسل لوڈ کی پابندی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوور لوڈنگ نہ صرف قومی انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ٹرانسپورٹرز کے اپنے مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی پائیداری، پلوں کی مضبوطی اور ٹرانسپورٹ کے محفوظ نظام کے لیے ایکسل لوڈ قوانین پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔
عبدالعلیم خان نے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایکسل لوڈ کے نفاذ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایکسل لوڈ کی حدود برقرار رکھنا مجموعی کاروباری ماحول کے لیے سودمند ہے اور اس سے طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا۔ وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے لیے پائیدار ترقی اور بہتری کا راستہ خود ضابطگی اور قانون کی پاسداری سے ہوکر گزرتا ہے۔
اس موقع پر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس نے کہا کہ ایسوسی ایشن عدالتی فیصلوں اور طے شدہ قوانین کی مکمل پاسداری پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوانین کی خلاف ورزی سے ایندھن کا ضیاع بڑھتا ہے، حادثات میں اضافہ ہوتا ہے اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناقص ریٹس اور معاشی دباؤ سے بچنے کے لیے ایکسل لوڈ پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
ملاقات میں ایم ون موٹر وے اور جی ٹی روڈ پر ایکسل لوڈ کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ قانون پر یکساں عملدرآمد ہی قومی شاہراہوں کے تحفظ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی بہتری کی ضمانت ہے۔
