تہران/واشنگٹن/تل ابیب (عالمی ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں United States اور Israel کی جانب سے ایران کے 131 شہروں پر فضائی و میزائل حملوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں 500 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 550 سے زائد بتائی گئی ہے۔
سلیم خان کی حالت مستحکم، لیلا وتی اسپتال میں زیرِ علاج
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں Natanz Nuclear Facility بھی شامل ہے۔ ایران کے سفیر نے International Atomic Energy Agency (آئی اے ای اے) میں الزام عائد کیا کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں عالمی جوہری قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جس کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی 48 اہم شخصیات اور متعدد فوجی کمانڈرز مارے گئے، جبکہ ایرانی بحریہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں بحرین اور کویت شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا نے امریکی ائیرکرافٹ کیریئر USS Abraham Lincoln پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی۔
خطے کے دیگر ممالک بھی زد میں آ گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کر کے سفیر واپس بلا لیا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایرانی حملوں میں غیر ملکی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ سعودی عرب میں ریاض ایئرپورٹ اور پرنس سلطان ایئربیس کے قریب میزائل مار گرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر لبنان میں Hezbollah اور اسرائیلی افواج کے درمیان بھی شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی طیاروں نے بیروت اور جنوبی لبنان میں بمباری کی۔
ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ تہران پر بمباری سے ایران کی جنگی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی اور “موزائیک دفاع” کی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر آمادہ ہے، تاہم ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا ہے۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور خام تیل 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بحران طویل ہوا تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
عالمی برادری کی نظریں اب آئی اے ای اے اور اقوام متحدہ کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ بڑھا رہی ہے۔
