آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، ایران میں 40 روزہ سوگ؛ خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

ایران کے دیرینہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور مہر نے ابتدائی طور پر رپورٹ کیا کہ خامنہ ای “میدان کی کمان کرنے میں ثابت قدم رہے”، جس کے بعد سرکاری سطح پر ان کی شہادت کی تصدیق سامنے آئی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، وزیراعظم کا دورۂ روس ملتوی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ 86 سالہ خامنہ ای ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والے امریکی-اسرائیلی مشترکہ حملوں میں مارے گئے۔ انہوں نے لکھا کہ جدید انٹیلی جنس اور ٹریکنگ نظام کے باعث “وہ بچ نہ سکے”، اور ایران میں “تبدیلی کا موقع” قرار دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا کہ سینیئر شخصیات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے وابستہ اعلیٰ عہدیداروں کو “ختم” کیا گیا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آپریشن جاری رہے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز 24 صوبوں میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 201 افراد ہلاک ہوئے۔ جنوبی شہر مناب کے ایک گرلز اسکول اور تہران کے مشرق میں واقع ایک اسکول کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر “جوابی حملوں” کی تیسری اور چوتھی لہر جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے ردعمل کے بعد کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں فضائی دفاعی نظام متحرک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اقوام متحدہ میں ہنگامی اجلاس کے دوران سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کشیدگی میں فوری کمی اور دشمنی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی کارروائی خطے میں ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے جنہیں کنٹرول کرنا ممکن نہ ہو۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایرانی نے امریکی و اسرائیلی حملوں کو “بلا اشتعال جارحیت” قرار دیتے ہوئے اسے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کہا۔ جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی عالمی سلامتی کے تناظر میں کی گئی کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

چین کے سفیر فو کانگ نے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکہ اور اسرائیل سے فوری طور پر جارحانہ اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کی شہادت نے پہلے سے جاری تنازع کو مزید غیر یقینی اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اور آئندہ دنوں میں خطے کی صورتحال عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

56 / 100 SEO Score

One thought on “آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، ایران میں 40 روزہ سوگ؛ خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!