اسلام آباد — پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے آپریشن “غضب للحق” کے تناظر میں پاک فوج کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس ماہِ رمضان میں پاکستان پر کی گئی جارحیت کا ہماری بہادر افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔
سندھ میں ڈرونز کی پرواز پر دو ماہ کی مکمل پابندی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور ہر ممکن سنجیدہ کوشش کی۔ ان کے مطابق برادر اسلامی ممالک نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا، تاہم اس کے باوجود سرحدی دراندازی اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا۔
سابق کپتان نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ان کی دلی خواہش ہے کہ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں امت مسلمہ عبادت، تقویٰ اور بھائی چارے کو فروغ دے، نہ کہ خونریزی اور تنازعات کا شکار ہو۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدس مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پڑوسی ملک کی جانب سے حملہ کیا گیا، جس پر پاک فوج نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز اور اس کے عوام کا دفاع یقینی بنایا۔
شاہد آفریدی نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ مشکل گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور انسانی بنیادوں پر ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ بننے سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا اور اس کا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم متحد ہے اور ملکی دفاع کے لیے ہر سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی۔
