آئی ایس پی آر: آپریشن "غضب للحق” میں 274 طالبان ہلاک، 400 سے زائد زخمی

راولپنڈی (27 فروری 2026) – ڈی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کے آپریشن "غضب للحق” کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں، اور دنیا سمجھتی ہے کہ یہ آپریشن عوام کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو دورہ، افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں سراہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس پر افغان طالبان رجیم نے پاکستان کے خلاف 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی، تاہم تمام حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ آپریشن میں اب تک 274 طالبان رجیم کے اہلکار ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ طالبان کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں جبکہ 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ دشمن کے 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا اور فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کابل، پکتیا اور قندھار میں بھی اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جس میں صرف عسکری اہداف کو نقصان پہنچایا گیا اور شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاکستانی فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا اور قندھار میں بھی بریگیڈ ہیڈکوارٹر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اپنی پناہ گاہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جبکہ پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن "غضب للحق” جاری ہے اور اس کے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا، تاکہ عوام کے تحفظ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “آئی ایس پی آر: آپریشن "غضب للحق” میں 274 طالبان ہلاک، 400 سے زائد زخمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!