مہنگائی اور سیاسی کشیدگی سے تنگ امریکیوں کی ریکارڈ ہجرت، یورپ پہلی ترجیح بن گیا

امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، سیاسی تقسیم اور معیارِ زندگی سے متعلق مسائل کے باعث بڑی تعداد میں امریکی شہری ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں بعد امریکا کو منفی خالص ہجرت کا سامنا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان کی کابل، پکتیا اور قندھار میں بمباری کی تصدیق

برطانوی اخبار The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران اندازاً ڈیڑھ لاکھ امریکی شہریوں نے مستقل یا طویل مدتی بنیادوں پر دیگر ممالک کا رخ کیا۔ یہ صورتحال آخری بار عظیم کساد بازاری کے دور میں دیکھنے میں آئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حکومتی مؤقف کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی اور سخت ویزا پالیسیوں کو اس رجحان کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل تبدیلی یہ ہے کہ خود امریکی شہری بہتر معاشی مواقع، کم ٹیکس اور بہتر سماجی سہولیات کی تلاش میں یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا منتقل ہو رہے ہیں۔

یورپی ممالک کی نرم ویزا پالیسیاں، ڈیجیٹل نوماڈ پروگرامز، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات اور ٹیکس مراعات امریکی شہریوں کے لیے خصوصی کشش کا باعث بن رہی ہیں۔ کئی ممالک غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ہنرمند افراد کو خصوصی رہائشی اسکیموں کے تحت طویل مدتی قیام کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا جو تاریخی طور پر تارکینِ وطن کی سب سے بڑی منزل سمجھا جاتا تھا، اب ایک نئے رجحان سے گزر رہا ہے جہاں شہری خود بیرونِ ملک بہتر مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “مہنگائی اور سیاسی کشیدگی سے تنگ امریکیوں کی ریکارڈ ہجرت، یورپ پہلی ترجیح بن گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!