اسلام آباد – وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق Islamic Emirate of Afghanistan کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال کارروائی کی گئی، جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا۔
کراچی: ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ، ایس ایس پی کا اہم دورہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبرپختونخوا میں سرحد کے متعدد مقامات پر فائرنگ کی، جس پر مؤثر جوابی کارروائی جاری ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان فورسز کو سخت نقصان پہنچایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مخالف جانب بھاری جانی نقصان ہوا اور متعدد چوکیاں و عسکری سازوسامان تباہ کر دیا گیا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
آپریشن ’’غضبُ للحق‘‘ کا آغاز
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر حالیہ کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن ’’غضبُ للحق‘‘ شروع کر دیا ہے۔ جوابی کارروائی میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر اور چترال سیکٹر میں افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ باجوڑ میں دو چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ بائیس فروری کو پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور دیگر دہشت گرد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے تھے، جن میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی افغانستان میں شدت پسند عناصر کی موجودگی سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں Russia نے بھی افغانستان میں ہزاروں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔
