کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے عمارت سے محفوظ نکلنے والے 6 افراد کو طلب کر لیا ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے کمیشن کی کارروائی میں فریق بننے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔
ایسٹ پولیس کا پیشہ ور گداگروں اور ٹریفک میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 310 افراد حراست میں
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی محمد شہزاد، گلشن اقبال کے سید عبداللہ، عثمان آباد کے محمد جنید، نیو کراچی کے محمد ایان، ڈی ایچ اے کے رہائشی فہد اور صدر کے رہائشی علی حیدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم نے کمیشن میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے متعلق اہم حقائق کمیشن کے ریکارڈ پر لانا ضروری ہیں۔ پارٹی کے وکیل طارق منصور نے مؤقف اپنایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اصل حقائق منظر عام پر نہیں لائے جا رہے اور 19 فروری کی کارروائی کے دوران ڈی جی ایس بی سی اے نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیرات میں بے ضابطگیوں کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ نمبر 56/2005 درج کیا تھا، جس میں بلڈر گل محمد خانانی، اس وقت کے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کنٹرولر بلڈنگز کو نامزد کیا گیا تھا۔ مؤقف کے مطابق نامزد ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے باوجود بعد ازاں پیپلزپارٹی کی حکومت نے مقدمہ واپس لے لیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسر منظور کاکا کو بعد میں ایس بی سی اے کا سربراہ تعینات کر دیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق کمیشن میں پیش ہو کر مزید شواہد اور مواد فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ سانحے کی شفاف تحقیقات ممکن ہو سکیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
جوڈیشل کمیشن درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فریق بنانے سے متعلق فیصلہ کرے گا۔
