کراچی: خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ میں حالیہ قرارداد پاکستان کے آئین کے منافی ہے اور یہ سندھ کی شہری آبادی کے حق پر ڈاکہ ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ 180 سیٹیں لینے والا جیل میں ہے اور 80 سیٹیں لینے والا وزیراعظم بن گیا، یہ کیسا انصاف ہے؟
صدر ایم کیو ایم پاکستان نے زور دیا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہے اور جماعت امن پسندی کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ جعلی مردم شماری اور مصنوعی اکثریت کے ذریعے سندھ پر قبضہ کیا گیا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے جماعت اسلامی کی جانب سے قرارداد کی حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حافظ نعیم سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سندھو دیش کے حامی ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی منافقت کو واضح کیا کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حمایت کرتے ہوئے سندھ میں مخالف موقف اختیار کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین کو زندہ دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جائے اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ایم کیو ایم نے 5 سال کے اندر دو مردم شماری کرانے کا سہرا بھی اپنے سر سمیٹا، جبکہ آئین کے آرٹیکل 140-A اور 239 نئے صوبے بنانے کی وضاحت کرتا ہے۔
صدیقی نے کہا کہ آئین ہی پرامن جدوجہد اور احتجاج کی ضمانت دیتا ہے اور سندھ کی شہری آبادی کے خلاف ہونے والی قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا: "انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔”
