آفاق احمد: گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات مشکوک، آزاد کمیشن کے قیام کی ضرورت

کراچی: آفاق احمد نے گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے رویے اور رپورٹنگ میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ اپنی رہائش گاہ پر تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی سی ساؤتھ اور ایس بی سی اے کے ڈی جی کی تعریف ناقابل فہم ہے اور صوبائی حکومت کے ذمہ داران کے بیانات گمراہ کن ہیں۔

سینئروزیر سندھ شرجیل انعام میمن: اختلاف رائے جمہوریت کا حسن، کراچی میں ترقیاتی کام روز و شب جاری

آفاق احمد نے کہا کہ اگر سرکاری اعداد و شمار کو سچ مان لیا جائے تو بھی 73 افراد کا جل کر شہید ہونا ایک المیہ ہے، اور ایسے میں ذمہ داران کو تعریف سے نوازنا سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کمیشن نے معاون کے طور پر ریڈر اور دو وکلاء مقرر کیے، جبکہ ایسے سانحے کی تحقیقات میں ماہرین کی خدمات لینا ضروری تھا۔

انہوں نے چھ بچ جانے والے متاثرین کے سیکیورٹی انتظامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیس کا کردار مشکوک رہا، کیونکہ ایس ایچ او نے عجلت میں دو بچوں کو آگ کا ذمہ دار قرار دے کر ایف آئی آر درج کی۔

آفاق احمد نے کہا کہ گل پلازہ انجمن کے صدر نے عدالت میں اعتراف کیا کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، اور انہوں نے آگ لگانے کی ذمہ داری بچوں پر ڈال دی، جو حکومت اور انجمن کے ممکنہ گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کمیشن کی سربراہی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ایف آئی اے، ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران پر مشتمل کمیشن یا عدالت کی معاونت کا قیام ضروری تھا۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ سو موٹو ایکشن لے اور گل پلازہ کے سانحے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور غیرجانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے۔ آفاق احمد نے مزید کہا کہ سانحے کے چند دن بعد چالیس گز پر بنی نو منزلہ عمارت میں آگ سے سولہ افراد کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم حادثات سے سبق نہیں سیکھتے، اور اگر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید حادثات کا خطرہ ہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “آفاق احمد: گل پلازہ کمیشن کی تحقیقات مشکوک، آزاد کمیشن کے قیام کی ضرورت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!