لاہور: Federal Board of Revenue نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے پوائنٹ آف سیلز (POS) لازمی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس کے تحت 14 سے زائد کاروباری شعبوں میں POS لگانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ٹیکس وصولی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
کراچی: ایسٹ زون تھانہ عزیز بھٹی کی اسنیپ چیکنگ، موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
نوٹیفکیشن کے مطابق ہوٹلز، ریسٹورینٹس، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز، مارکیز اور ریس کلبز میں POS لازمی ہوگا، جبکہ ایسے مقامات جہاں ائیر کنڈیشنر کی سہولت نہ ہو وہاں چھوٹ دی گئی ہے۔ دکانیں، ہوٹل، کلب، اسپتال اور بیوٹی پارلرز سمیت دیگر کاروبار ایف بی آر نظام سے منسلک ہوں گے۔
شہروں میں چلنے والی گاڑیوں، کورئیر اور کارگو سروسز، ڈینٹسٹ، فزیوتھراپسٹ، پلاسٹک و ہیئر سرجنز، وٹرنری ڈاکٹرز، میڈیکل لیب، ایکسرے، سی ٹی اور ایم آر آئی اسکین سینٹرز میں بھی POS لازمی ہوگا۔ بیوٹی پارلرز، مساج سینٹرز، پیڈی کیور سینٹرز اور پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی POS لازمی ہوگا، جبکہ 500 روپے ماہانہ فیس والے اسپتالوں کو چھوٹ دی گئی ہے۔
ہیلتھ کلبز، جمز، سوئمنگ پولز، ملٹی پرپز کلبز، سول اور نان سول پولو کلبز، چارٹڈ اکاؤنٹنٹس اور کاسٹ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس کے لیے بھی POS لازمی ہوگا۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے جمخانہ اور کلبز میں POS لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور ریٹیلرز، مینوفیکچررز اور امپورٹرز کے لیے آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج ڈیلرز، کرنسی ایکسچینج کمپنیاں، نجی تعلیمی ادارے اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس بھی POS کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو چھوٹ دی گئی ہے۔
