کراچی: ماہِ صیام کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کمشنر کراچی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ Hazim Bhungar نے ایم اے جناح روڈ اور برنس روڈ سمیت مختلف تجارتی علاقوں میں پرائس چیکنگ مہم کے دوران 5 منافع خوروں کو گرفتار کر لیا جبکہ متعدد دکانداروں کے چالان بھی کیے گئے۔
تھر کوئلے سے یوریا کھاد منصوبے پر اہم پیش رفت، وزیراعلیٰ سندھ اور ایف ایف سی کا اجلاس
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق کارروائی کے دوران 250 سے زائد دکانوں، ریسٹورنٹس اور گوشت مارکیٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ چیکنگ کے دوران سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمتیں وصول کرنے، نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں نہ کرنے اور وزن میں کمی جیسے معاملات سامنے آئے، جس پر فوری قانونی کارروائی کی گئی۔
حاظم بھنگوار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ماہِ صیام میں گراں فروشی میں اضافہ قابلِ قبول نہیں اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گراں فروشی اور مصنوعی مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
کارروائی کے دوران برنس روڈ پر تجاوزات اور غیر قانونی اسٹالز کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صرف بار بی کیو کا سامان دکان کے باہر رکھنے کی اجازت ہوگی، بصورت دیگر دکان سیل کر دی جائے گی۔ فٹ پاتھ اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پرائس چیکنگ مہم شہریوں کی شکایات اور سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر تیز کی گئی ہے۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آفس یا سرکاری ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں۔
اسسٹنٹ کمشنر آرام باغ نے اعلان کیا کہ ماہِ صیام کے دوران روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کی نگرانی کی جائے گی اور مجسٹریٹس کو فیلڈ میں متحرک رکھا جائے گا۔ تاجروں کو تنبیہ کی گئی کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر جرمانے، گرفتاری اور دکانوں کی سیلنگ جیسی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول مہم جاری رہے گی اور کسی کو بھی ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

