اسلام آباد (رپورٹ) — صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
دنیا کی توجہ سندھ کی جانب عملی نتائج کی وجہ سے مرکوز ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر مکمل طور پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہاپسندی پالیسی 2024 فعال اور مؤثر روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے، جبکہ اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پائیدار امن صرف تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے۔ صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہا پسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر زرداری نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہا پسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا جہاں نفرت پر امید غالب ہو، تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمے کو ترجیح دی جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت انگیز نظریات اور تشدد آمیز رجحانات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتہا پسندی نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی اقدار کو بھی کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کی قربانیوں کو قومی عزم کی روشن مثال قرار دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں، جبکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔
وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی انتہاپسندانہ رویوں کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
