کراچی (رپورٹ) — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دنیا کی توجہ سندھ کی جانب اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ صوبائی حکومت نے انتہائی مشکل حالات میں عملی نتائج دے کر دکھائے ہیں۔
بنگلادیش میں عوامی تحریک کے بعد پہلے عام انتخابات، ملک بھر میں پولنگ کا آغاز
کراچی میں ایشیا-پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران سندھ کا 70 فیصد علاقہ زیرِ آب آ گیا تھا جبکہ 21 لاکھ سے زائد مکانات متاثر ہوئے، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بڑے انسانی بحران کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہر متاثرہ خاندان کو مضبوط، محفوظ اور باوقار گھر فراہم کرنے کا عزم کیا۔ ابتدا میں وسائل کی کمی کے باعث یہ ہدف ناممکن دکھائی دیتا تھا، تاہم مضبوط عزم، مؤثر حکمتِ عملی اور شفاف منصوبہ بندی کے ذریعے اس منصوبے کا عملی آغاز کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ایک ہفتے کے اندر عالمی بینک نے مالی معاونت پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ بعد ازاں عالمی کانفرنس کے ذریعے مختلف ڈونر اداروں کی حمایت حاصل کی گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) منصوبہ اب دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروگرام بن چکا ہے، جس کے تحت لاکھوں مکانات کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کمزور طبقات، بالخصوص خواتین کو گھروں کی ملکیت دے کر انہیں بااختیار بنایا گیا، جس سے سماجی ترقی اور مثبت تبدیلی کو فروغ ملا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی حقیقت ہے اور سندھ اپنے تجربات دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ مشترکہ طور پر پائیدار، محفوظ اور انسانی وقار پر مبنی رہائشی نظام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
