کراچی میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے بعد شہر بھر میں ٹریفک کی صورتحال شدید ابتر ہو گئی ہے۔ رکن سندھ اسمبلی محمد عامر صدیقی نے اس سنگین صورتحال پر آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو باضابطہ خط لکھتے ہوئے ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی اور سڑکوں سے عملی طور پر غائب ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سندھ حکومت کا کسانوں کو سرکاری معیاری بیج سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ
محمد عامر صدیقی نے خط میں نشاندہی کی کہ ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد کراچی بھر میں ٹریفک کانسٹیبل اور افسران سڑکوں پر نظر نہیں آتے، جس کے باعث اسکول کے اوقات اور پیک آورز میں شہریوں، طلبہ اور مریضوں کو گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ای چالان پر عملدرآمد صرف کیمروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں ٹریفک کنٹرول کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ اس صورتحال کے باعث ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن میں غلط سمت میں ڈرائیونگ اور ون وے کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔
رکن سندھ اسمبلی نے اپنے حلقہ پی ایس 102 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گورمندر، البیلا سگنل، لسبیلہ، گارڈن، جماعت خانہ، فاطمیہ اسپتال، تین ہٹی، جیل روڈ، یادگار فش، اسلامیہ کالج اور نیو ایم اے جناح روڈ پر روزانہ بدترین ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ نیو ایم اے جناح روڈ پر جاری ریڈ لائن منصوبے کے باعث عوام پہلے ہی شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس کی عدم موجودگی نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ ایماندار ٹیکس دہندگان کا قیمتی وقت اور پٹرول ضائع ہو رہا ہے، جس کے باعث عوام شدید ذہنی دباؤ اور کوفت کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شہر بھر میں ٹریفک کانسٹیبل تعینات کیے جائیں اور مؤثر ٹریفک کنٹرول کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔

