کراچی میں مال بردار ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال نو دن سے زائد ہو چکی ہے، جس سے تاجروں اور غریب طبقے کے لیے صورتحال بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ہڑتال کے باعث کئی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور شہروں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی، جس سے سردی میں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
کراچی: جعلی نمبر پلیٹس والے مجرم، انہیں جیل بھیجنا چاہیے، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس
سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے لیے ملائیشیا سے آنے والے گرم کپڑوں کے پانچ کنٹینرز بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مستحقین میں کپڑوں کی تقسیم رک گئی ہے۔ سیلانی کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے ہڑتال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔
تاجر تنظیموں کے مطابق ہڑتال سے اب تک اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، اور بندرگاہوں پر کنٹینرز کے دباؤ سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ عوام اور تجارتی طبقے نے فوری حل کے لیے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔