کابل میں افغانستان کے سرکردہ علما کے اجلاس میں منظور کی گئی اہم قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی، اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ”اسلامی امارت ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے“۔
Friday, 12th December 2025
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کسی افغان شہری کو بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ”روکنے اور کارروائی کرنے“ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان نے اس پیش رفت کو ”مثبت قدم“ قرار دیا ہے، تاہم طالبان کے ماضی کے طرزِعمل کے باعث اسلام آباد نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر عبوری افغان حکومت سے تحریری ضمانت کا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
ماہرین کے مطابق یہ دستاویز ایک قابلِ ذکر پیش رفت ضرور ہے، مگر اس کی قانونی حیثیت محدود ہے، کیونکہ یہ افغان حکومت کی بجائے آزاد علما کے ایک گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ہے اور اس میں پاکستان کا براہِ راست ذکر بھی موجود نہیں۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص افغانستان کی سرحد سے باہر عسکری کارروائی کرے گا، اسے ”باغی“ تصور کیا جائے گا اور یہ امیر کے حکم کی خلاف ورزی شمار ہوگی جو قابلِ سزا جرم ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس سزا کو نافذ کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہوگا۔
یہ قرارداد ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلسل کابل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سمیت تمام ایسے گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے جن پر پاکستان میں دہشت گردی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ سپریم لیڈر کے نام سے ایک باضابطہ فرمان جاری کیا جائے تاکہ سرحد پار نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
اجلاس میں شریک افغان اسکالر شیخ فقیراللہ فائق کے مطابق تمام بڑے مذہبی مکاتب فکر کے نمایاں علما اس اجلاس میں موجود تھے، جن کا اثر بیرون ملک جانے والے جنگجوؤں پر نمایاں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یہ قرارداد مؤثر ثابت ہوگی اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
