ٹرمپ انتظامیہ مزید 30 سے زائد ممالک پر سفری پابندیوں پر غور کر رہی ہے کرسٹی نوئم کا انکشاف

جنوبی ڈکوٹا کی سابق گورنر اور ٹرمپ کی قریبی اتحادی کرسٹی نوئم نے فوکس نیوز کے پروگرام "دی انگراہم اینگل” میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفری پابندیوں کی فہرست میں مزید ممالک شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
بلوچستان مختلف مقامات سے چار افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد

انہوں نے کہا کہ "میں درست تعداد نہیں بتا سکتی، لیکن یہ 30 سے زائد ممالک ہیں، اور صدر مسلسل مختلف ملکوں کا جائزہ لے رہے ہیں”۔

واضح رہے کہ جون میں صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی جبکہ 7 ممالک پر جزوی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ یہ اقدامات بقول انتظامیہ ’’غیر ملکی دہشت گردی‘‘ اور دیگر سلامتی خطرات سے تحفظ کے لیے کیے گئے تھے۔ پابندیاں امیگرنٹس، نان امیگرنٹس، طلبہ، سیاح اور کاروباری افراد سمیت مختلف کیٹیگریز پر لاگو ہیں۔

کرسٹی نوئم نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی جنہیں نئی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ "اگر کسی ملک میں مستحکم حکومت نہیں، یا وہ اپنے شہریوں کی شناخت کی درست تصدیق نہیں کر سکتا، تو پھر امریکا کو کیوں ایسے افراد کو داخلے کی اجازت دینی چاہیے؟”۔

رائٹرز کی ایک سابقہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ 36 مزید ممالک کے شہریوں پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا ذکر محکمہ خارجہ کی اندرونی رپورٹ میں بھی کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت اُس فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تحقیقات کے مطابق فائرنگ ایک افغان شہری نے کی تھی جو 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔ ٹرمپ حکام کے مطابق اس پروگرام میں ’’تصدیقی عمل ناکافی‘‘ تھا۔

واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’’تمام تیسری دنیا کے ممالک‘‘ سے مہاجرین کی مستقل روک تھام کو یقینی بنائیں گے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی ’’تیسری دنیا‘‘ کی کوئی واضح تعریف پیش کی۔

اس سے قبل ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام نے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور شدہ پناہ گزین کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو دی گئی گرین کارڈز کے وسیع جائزے کا حکم بھی دیا ہے۔

جنوری میں دوسری بار صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کے سخت قوانین پر خصوصی توجہ دی ہے، بڑے شہروں میں اضافی وفاقی اہلکار تعینات کیے ہیں اور میکسیکو سرحد پر پناہ کے امیدواروں کی آمد روک دی ہے۔ انتظامیہ نے اگرچہ ڈی پورٹیشنز پر زور دیا ہے، تاہم قانونی امیگریشن کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “ٹرمپ انتظامیہ مزید 30 سے زائد ممالک پر سفری پابندیوں پر غور کر رہی ہے کرسٹی نوئم کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!