برطانوی یونیورسٹیوں نے پاکستانی و بنگلہ دیشی طلبہ کو ہائی رسک قرار دے کر داخلے محدود کر دیے

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کی کم از کم نو اعلیٰ تعلیمی یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کو ویزا کے لیے ’’ہائی رسک‘‘ کیٹیگری میں شامل کرتے ہوئے داخلہ پالیسیوں کو سخت بنا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی طلبہ کی اسپانسرشپ اہلیت برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ مزید 30 سے زائد ممالک پر سفری پابندیوں پر غور کر رہی ہے کرسٹی نوئم کا انکشاف

جمعرات کو جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد برطانوی حکام نے تشویش ظاہر کی تھی کہ اسٹڈی روٹ کو ’’آبادکاری کے پچھلے دروازے‘‘ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

یونیورسٹی آف چیسٹر نے ’’ویزوں کے انکار میں اچانک اضافے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان سے داخلے 2026 کی خزاں تک معطل کر دیے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں ممالک سے انڈرگریجویٹ درخواستوں کی وصولی روک دی ہے، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے پاکستان سے بھرتیاں مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔

دیگر اداروں میں سنڈر لینڈ، کوونٹری، ہرٹفورڈ شائر، آکسفورڈ بروکس، گلاسگو کیلیڈونین اور نجی ادارہ بی پی پی یونیورسٹی شامل ہیں، جنہوں نے بھی ’’رسک میٹیگیشن‘‘ اقدامات کے تحت دونوں ممالک کے طلبہ کے داخلے محدود یا معطل کر دیے ہیں۔

یہ پابندیاں اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد متعارف ہوئیں جو ستمبر میں نافذ کی گئی، جس کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو اسپانسر کرنے والے اداروں کے لیے ویزا انکار کی زیادہ سے زیادہ حد 10 فیصد سے کم کر کے صرف 5 فیصد کر دی گئی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستانی طلبہ کے ویزوں کی انکار شرح 18 فیصد جبکہ بنگلہ دیش کے طلبہ کی شرح 22 فیصد ہے، جو نئی حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دونوں ممالک کے درخواست گزار مجموعی طور پر 23 ہزار 36 ویزا انکار کے نصف کے برابر ہیں جو ہوم آفس نے ستمبر 2025 تک رپورٹ کیے۔

ان دونوں ممالک سے پناہ کی درخواستوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں متعدد کیسز ایسے طلبہ کے تھے جو پہلے اسٹڈی یا ورک ویزا پر برطانیہ آئے تھے۔

بین الاقوامی تعلیم کے مشیر وِنچینزو رائمو نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ کریک ڈاؤن نے کم فیس لینے والی یونیورسٹیوں کو ’’اصل مخمصے‘‘ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ یہ ادارے غیر ملکی طلبہ پر شدید انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، چند مسئلہ زدہ کیسز بھی سخت حدوں کے تحت یونیورسٹیوں کی کمپلائنس کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ادھر تعلیمی ایجنٹس نے بھی ان اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ لاہور کی ایڈوانس ایڈوائزرز کی بانی مریم عباس نے بتایا کہ حقیقی طلبہ کی درخواستیں آخری مرحلے میں مسترد ہو رہی ہیں، جو ’’انتہائی مایوس کن‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرتی کرنے والے ایجنٹس کی کمزور نگرانی نے اسٹڈی روٹ کے غلط استعمال میں اضافہ کیا ہے، جسے ’’آمدنی کا ذریعہ‘‘ بنا لیا گیا ہے۔

یونیورسٹیز یوکے انٹرنیشنل نے اپنی پالیسی میں واضح کیا کہ اسپانسرشپ کے حقوق برقرار رکھنے کے لیے اداروں کو داخلوں میں تنوع اور درخواستوں کی سخت جانچ ناگزیر ہو چکی ہے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “برطانوی یونیورسٹیوں نے پاکستانی و بنگلہ دیشی طلبہ کو ہائی رسک قرار دے کر داخلے محدود کر دیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!