وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات میں قانون کے غلط استعمال کو روکنے اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے عملی حفاظتی اقدامات متعارف کرا رہی ہے۔
حوثی کمانڈر میجر جنرل محمد الغماری اسرائیلی حملے میں شہید بیٹے اور ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش
وہ سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں منعقدہ سیمپوزیم ’بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق – ایک آئینی ضرورت‘ سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن (ایل جے سی پی) اور فیڈرل جسٹس اکیڈمی (ایف جے اے) نے مشترکہ طور پر کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے عدلیہ کے ارکان پر زور دیا کہ وہ آئینی رہنمائی اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کرتے رہیں۔
وزیر قانون نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو ہمدردی، رواداری اور انسانیت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ کاروباری برادری ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے جو مساوی مواقع اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ اسلام کا پیغام امن، ہمدردی اور انسانیت کے احترام پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ صرف نظریاتی بحث نہیں بلکہ عدالتی طرزِ عمل میں بھی جھلکنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ اس مکالمے سے پاکستان ایک ایسے معاشرتی نظام کے قریب آئے گا جہاں حقوق صرف اعلان نہیں بلکہ حقیقت بنیں، انصاف تاخیر کا شکار نہ ہو، اور قانون مساوات و امن کی زبان بنے۔
سعودی عدلیہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں بین الاقوامی مثال بن چکا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہوئے عدلیہ کے کردار کو سراہا۔
سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ عدلیہ پر مساوات، کثرتیت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کی مقدس ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اختتام پر منظور ہونے والے ’اعلانِ ہم آہنگی‘ میں عدالتی شعبے میں بین المذاہب حساسیت اور انسانی حقوق کی تعلیم شامل کرنے، اقلیتوں کے تحفظ کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، اور تمام شہریوں کے لیے مساوات و انصاف کے آئینی وعدے کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔

89hq32