اسسٹنٹ کمشنر زیارت کا بیٹا ہرنائی کے پہاڑوں سے بازیاب اسسٹنٹ کمشنر تاحال لاپتہ

اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل کے بیٹے مستنصر بلال کو ہرنائی کے پہاڑی علاقے سے بازیاب کرالیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اغواکاروں نے گزشتہ شب مغوی کو ہرنائی کے پہاڑوں میں چھوڑ دیا، جہاں سے مقامی حکام نے انہیں اپنی تحویل میں لیا۔ مستنصر بلال کو آج کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔
مریدکے آپریشن کے بعد ٹی ایل پی رہنما زیرِ زمین جمعے کے بعد ممکنہ احتجاج کا خدشہ

تاہم اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل تاحال بازیاب نہیں ہوسکے۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی بازیابی کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 10 اگست کو زیارت کے علاقے زیزری سے دہشت گردوں نے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل اور ان کے بیٹے مستنصر بلال کو اغوا کیا تھا۔ بعد ازاں اغواکاروں نے دونوں کی ویڈیو جاری کی تھی، جس میں وہ حکام سے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔

بلوچستان حکومت نے اس واقعے کے بعد اغواکاروں کا سراغ لگانے یا گرفتاری کی اطلاع دینے والے کے لیے 5 کروڑ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی افسر کی بازیابی کے لیے مشترکہ فورسز کی کارروائیاں ہرنائی، زیارت، اور سنجاوی کے پہاڑی سلسلوں میں جاری ہیں۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “اسسٹنٹ کمشنر زیارت کا بیٹا ہرنائی کے پہاڑوں سے بازیاب اسسٹنٹ کمشنر تاحال لاپتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!