وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اصل بحران معیشت کا نہیں بلکہ نیتوں کا بحران ہے، نیتیں درست کیے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں۔
امریکا کا قطر کے ساتھ دفاعی تعاون میں نیا معاہدہ، ماؤنٹین ہوم ایئر بیس پر قطری فضائیہ کی تنصیب قائم ہوگی
ناظم آباد میں نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر تبدیلی لانی ہے تو وہ ایوان کے اندر لائی جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ایوانوں میں کسانوں کی نمائندگی بھی جاگیردار اور بااثر خاندان کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بنیادی تعلیم صوبوں کو منتقل کر دی گئی ہے، لیکن تعلیم کے معیار میں بہتری کے لیے اب بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ “ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری قسمت کا فیصلہ مشینیں کریں گی۔ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہی ہے، ہمیں بھی اپنے نوجوانوں کو اسی سمت تیار کرنا ہوگا۔”
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “امریکا میں ایک نرس کی اتنی ہی عزت ہے جتنی ڈاکٹر کی، جبکہ میں جس ادارے میں پڑھا، وہاں اب 90 فیصد سے زائد طلبہ لڑکیاں ہیں۔”
وفاقی وزیر نے کہا کہ “چین کی ترقی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انہیں اب سوا ارب آبادی کم لگ رہی ہے، جبکہ ہم اب بھی سوچنے کے مرحلے میں ہیں، حالانکہ سوچنے کا وقت گزر چکا ہے۔”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “جو بچے امتحانات میں پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں، وہ ایوانوں میں کیوں نہیں پہنچ پاتے؟ اگر قابل لوگ فیصلہ سازی میں شامل نہ ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔”
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ “ہم ان بدنصیب ملکوں میں شامل ہیں جو ڈی اِنڈسٹریلائز ہو چکے ہیں۔ افرادی قوت کے بغیر برآمدات کرنے والی فیکٹریاں اب زندہ نہیں رہ سکتیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو نئی صنعتی پالیسی اور نوجوانوں کی ہنرمندی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، کیونکہ “اب دنیا محنت سے نہیں، مہارت سے جیتی جاتی ہے۔”
