بھارت کے زیر انتظام خطہ لداخ ریاستی حیثیت اور مقامی حقوق کے مطالبات پر ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ دو روز قبل بھارتی حکام نے معروف کارکن وانگچک کو گرفتار کر لیا، جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے عوام کو اکسا رہے تھے۔
متنازع ٹویٹ کیس اعظم سواتی کی بریت کی درخواست مسترد فردِ جرم عائد
لیہ شہر میں بدھ کو مشتعل ہجوم نے سرکاری عمارتوں اور پولیس گاڑیوں کو آگ لگا دی، مظاہرین کی پولیس سے جھڑپ کے دوران فائرنگ بھی ہوئی جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد سے خطے کے کئی حصوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق وانگچک کو ایک پریس کانفرنس سے قبل گرفتار کیا گیا، جب کہ بھارتی وزارت داخلہ نے ان کی غیر سرکاری تنظیم "اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ” کا لائسنس منسوخ کر دیا۔
وانگچک نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرے عوام کی وفاقی حکومت سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا نتیجہ ہیں۔ لداخ کے باسی مقامی لوگوں کے لیے روزگار میں کوٹہ، خطے کے لیے خصوصی حیثیت اور قبائلی علاقوں کے تحفظ کے لیے منتخب اداروں کا قیام چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ 2019 میں نریندر مودی حکومت نے لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے براہِ راست دہلی کے انتظام میں دے دیا تھا، جس کے بعد سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
بھارتی وفاقی حکومت اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان ان مطالبات پر مذاکرات 2023 سے جاری ہیں، جن کی اگلی نشست 6 اکتوبر کو متوقع ہے۔
