ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی متنازع ٹویٹ کیس میں بریت کی درخواست خارج کرتے ہوئے ان پر فردِ جرم عائد کر دی۔
9 مئی کیس عمران خان کی ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد مزید گواہان طلب
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔ فردِ جرم عائد ہونے پر اعظم سواتی نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔ دورانِ سماعت ان کا کہنا تھا کہ ’’قرآن میں ہمیں سچ بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے، آزادی اظہار رائے جرم نہیں ہو سکتی۔‘‘
سماعت کے دوران وکیل صفائی سہیل سواتی نے مؤقف اپنایا کہ ٹوئٹر سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ زیرِ بحث اکاؤنٹ اعظم سواتی کا ہی ہے، جب کہ مقدمے میں سابق آرمی چیف فریق نہیں ہیں۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ 27 نومبر کو ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو فوجی افسران کے خلاف متنازع ٹویٹ کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل 12 اکتوبر کو بھی وہ اسی نوعیت کے الزام میں گرفتار ہو چکے تھے۔ ایف آئی اے نے ان کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 131، 500، 501، 505 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، تین ٹوئٹر اکاؤنٹس سے حساس اداروں اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجواہ سمیت فوجی افسران کے خلاف مہم چلائی گئی، جسے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور افسران میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔ استغاثہ نے الزام لگایا کہ اعظم سواتی نے جان بوجھ کر اشتعال انگیز ٹویٹس کے ذریعے فوجی افسران کو اپنی ذمہ داریوں سے ہٹانے اور عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی۔
