پاکستان پانی کی قلت کی عالمی حد سے نیچے، ذخائر میں اضافہ ناگزیر — پی سی آر ڈبلیو

پاکستان میں پانی کے بحران نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے اور ملک پانی کی قلت کی عالمی حد سے بھی نیچے جا چکا ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو) کی تازہ دستاویز میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہر پاکستانی کے لیے پانی کی سالانہ دستیابی صرف 7 لاکھ 33 ہزار لیٹر رہ گئی ہے، جبکہ عالمی معیار کے مطابق فی کس کم از کم ایک ہزار مکعب میٹر پانی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی ظلم کی انتہا، الزیتون میں 10 فلسطینی شہید، اموات 61 ہزار 776 تک پہنچ گئیں

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سالانہ بہاؤ کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے، جبکہ عالمی اوسط 40 فیصد ہے۔ ملک میں سالانہ 4 ماہ پانی 80 فیصد دستیاب رہتا ہے، جبکہ باقی 8 ماہ شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مٹی بھرنے کے باعث موجودہ ذخائر اپنی عمر کھو رہے ہیں۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی چار بڑی فصلیں 75 فیصد زرعی پانی استعمال کر رہی ہیں، جبکہ آبپاشی کے ناقص نظام اور زیادہ پانی مانگنے والی فصلیں بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ پی سی آر ڈبلیو نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر پانی کے ذخائر میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “پاکستان پانی کی قلت کی عالمی حد سے نیچے، ذخائر میں اضافہ ناگزیر — پی سی آر ڈبلیو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!