نوجوان کے قتل کا کیس: ایس ایچ او صدرالدین میرانی سمیت 4 ملزمان 8 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی: ضلع ملیر کی عدالت نے تھانہ شاہ لطیف میں ایک نوجوان کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ایس ایچ او صدرالدین میرانی، ہیڈ محرر سلیم مغل، اور اسپیشل پارٹی کے دو کارندوں عاطف اور شاہ زیب کو 8 اگست 2025 تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: آئی جی سندھ کی زیر صدارت سی پی او کراچی میں اظہارِ یکجہتی کی تقریب

ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر (آئی او) نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان عاطف اور شاہ زیب دو افراد کو غیر قانونی طور پر تھانے لائے، جہاں جھگڑے کے دوران عاطف کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔

آئی او کے مطابق، ایس ایچ او صدرالدین میرانی اور ہیڈ محرر سلیم مغل نے جائے وقوعہ سے قتل کے شواہد مٹانے کی کوشش کی، سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلیٹ کی گئی اور خون کے نشانات دھو دیے گئے۔

پولیس نے واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد تمام ملزمان کو گرفتار کر کے شاہ لطیف تھانے میں قتل اور شواہد چھپانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے بتایا کہ ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عاطف اور شاہ زیب تھانے کی غیر قانونی اسپیشل پارٹی کے رکن تھے، جنہیں ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کی سرپرستی حاصل تھی۔

ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو بھی مقدمے میں نامزد کرنے کی وجہ یہی شواہد ہیں کہ وہ واقعے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھے اور ثبوت مٹانے میں براہ راست ملوث پائے گئے۔

واقعے نے پولیس کے اندر موجود غیر قانونی گروہوں اور طاقت کے ناجائز استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور عوامی حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “نوجوان کے قتل کا کیس: ایس ایچ او صدرالدین میرانی سمیت 4 ملزمان 8 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!