شرح سود 11 فیصد پر برقرار مہنگائی اور درآمدات میں اضافے پر گورنر اسٹیٹ بینک کا اظہارِ تشویش

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ملکی معاشی اشاریوں اور مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
Wednesday, 30th July 2025

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2024 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 4.5 فیصد رہی، جو کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف سے کچھ کم تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ بنیادی مہنگائی کی شرح بھی بتدریج کم ہوئی ہے، جو جون 2025 میں 7.5 فیصد تک آگئی ہے۔ اسی ماہ مجموعی مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

جمیل احمد نے خبردار کیا کہ اپریل میں مہنگائی کی مجموعی شرح 0.3 فیصد کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد دوبارہ بڑھنے لگی ہے، اور آئندہ سال کے آغاز میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں کچھ ردوبدل ہوا ہے، مگر آئندہ مہینوں میں ان کے اثرات مہنگائی پر منفی پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بیرونی کھاتوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا، جس کے مطابق مالی سال 2025 میں درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی مالیت 59.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ 53 ارب ڈالر تھیں۔ نان آئل امپورٹس میں 16 فیصد اضافہ معیشت میں سرگرمیوں کی بحالی کا اشارہ ہے۔

گورنر نے تسلیم کیا کہ برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ مطلوبہ سطح سے کم ہے، جس سے تجارتی خسارہ برقرار رہا۔ تاہم زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو مالی سال 2024 میں 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ اس سے پچھلے سال یہ 30 ارب ڈالر تھے۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “شرح سود 11 فیصد پر برقرار مہنگائی اور درآمدات میں اضافے پر گورنر اسٹیٹ بینک کا اظہارِ تشویش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!