تل ابیب/تہران: اسرائیلی حکام نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل سیکڑوں بیلسٹک میزائلوں سے منہ توڑ جواب دے گا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ایرانی آرمی چیف محمد باقری اسرائیلی حملے میں شہید، اہم تنصیبات اور شہروں کو نشانہ بنایا گیا
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حملے کو "کامیاب کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، لیکن یہ جنگ آسان نہیں ہو گی۔ نیتن یاہو نے عوام کو خبردار کیا کہ حالات کے پیش نظر طویل مدت تک زیرِ زمین پناہ گاہوں میں رہنے کے لیے تیار رہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران پر پانچ مراحل میں حملے کیے، جن میں آٹھ مختلف شہروں میں درجنوں حساس تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران اور اس کے مضافات میں فوجی مراکز، نطنز میں ایٹمی ری ایکٹر، تبریز میں ایٹمی تحقیقاتی مرکز اور دو فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ اصفہان، اراک، کرمان شاہ، ایلام اور اہواز میں بھی حملے کیے گئے، جنہیں اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف "فوجی برتری کا مظاہرہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
