پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2025 کی صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد اس کا نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر شیئر کیا۔ یہ بل، جو 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے تیار کیا گیا ہے، 27 مئی کو ایوانِ صدر پہنچا تھا اور قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظوری کے بعد اب باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔
زائد المیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز بند فیشل ریکگنیشن سسٹم 31 دسمبر 2025 تک نافذ ہوگا محسن نقوی
بل کی منظوری کو انسانی حقوق کی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسے مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو "ریپ” قرار دینا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔
شیری رحمٰن نے اس قانون کو بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ مختلف دباؤ کے باوجود یہ قانون سازی ممکن ہوئی۔ انہوں نے بل کو صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک علامتی فتح قرار دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری بچیوں کو تعلیم، صحت اور بہتر زندگی کا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا جلال الدین نے اس قانون کو شریعت، روایات اور معاشرتی اقدار سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ صدر زرداری کو اس بل پر دستخط نہیں کرنے چاہیے تھے کیونکہ اس سے معاشرتی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
قومی اسمبلی میں یہ بل شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا، جنہوں نے اسے انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 13 یا 14 سال کی بچیوں کی شادی اس وقت سراسر ناانصافی ہے جب انہیں شناختی کارڈ یا ووٹ ڈالنے کا حق تک حاصل نہیں۔ انہوں نے وفاقی شریعت عدالت کے 2022 کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں ریاست کو شادی کی کم از کم عمر مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔
بل کی اہم شقیں:
18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی پر بالغ مرد کو 3 سال قید بامشقت۔
18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ رہنے کو ریپ تصور کیا جائے گا۔
کم عمر بچی یا بچے کی شادی کرانے والے کو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ۔
کم عمر کی شادی میں معاونت پر 3 سال قید اور جرمانہ۔
ٹریفکنگ پر 7 سال قید اور جرمانہ۔
نکاح خواں پر لازم ہے کہ دونوں فریقین کے شناختی کارڈ چیک کرے؛ خلاف ورزی پر 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ۔
شیری رحمٰن اور شرمیلا فاروقی نے باقی صوبوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اس طرز پر قانون سازی کریں تاکہ ملک بھر میں بچوں کے حقوق کا یکساں تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
