تشکر نیوز کے مطابق، مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں گرفتار ملزم شیراز دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کروانے کے لیے تیار ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم کو سوچنے کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا اور کہا کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے، اچھی طرح غور و فکر کے بعد بیان دیں۔ عدالت نے سماعت ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔
پاکستان انجینئرنگ کونسل کی کارکردگی کا جائزہ، وفاقی کابینہ نے کمیٹی تشکیل دے دی
کیس کا پس منظر
ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کے مطابق، مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس سے لاپتا ہوا تھا، اور اس کی والدہ نے اگلے روز گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ 25 جنوری کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے پر کیس میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (AVCC) منتقل کر دیا گیا۔
9 فروری کو اے وی سی سی نے ملزم ارمغان کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا، جہاں ملزم کی فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوئے۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد ملزم گرفتار ہوا لیکن عدالت نے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی۔
قتل اور لاش برآمدگی
ابتدائی تفتیش میں ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرکے لاش ملیر میں پھینکنے کا دعویٰ کیا لیکن بعد میں اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔ بعد ازاں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ملزم شیراز کو گرفتار کیا، جس نے اعتراف کیا کہ ارمغان نے اس کی مدد سے مصطفیٰ کو تشدد کرکے قتل کیا اور لاش حب میں جلا دی۔ پولیس نے شیراز کی نشاندہی پر مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی جبکہ حب پولیس نے لاش پہلے ہی رفاہی ادارے کے حوالے کرکے امانتاً دفنا دیا تھا۔
مزید تحقیقات اور شواہد
کراچی پولیس کے مطابق، مقتول مصطفیٰ کا موبائل فون تاحال نہیں ملا، جبکہ ارمغان سے قتل کے آلات اور دیگر شواہد حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا۔
15 فروری کو تشکر نیوز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ قتل کی ممکنہ وجہ ایک لڑکی تھی، جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی۔ انٹرپول کے ذریعے لڑکی سے رابطہ کرنے کی کوشش جاری ہے کیونکہ اس کا بیان کیس کے لیے اہم ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق، نیو ایئر نائٹ پر مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔
