سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا سندھ کے تعلیمی بورڈز میں بیوروکریٹس کی تقرری کے خلاف سخت احتجاج

کراچی: سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین سمیت اہم انتظامی عہدوں پر بیوروکریٹس کی تقرری کی خبروں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، سیکریٹری جنرل غلام مصطفیٰ کاکا، مرکزی سینیئر نائب صدر عدیل خواجہ، مرکزی نائب صدر پروفیسر مشتاق پھلپوٹو، مرکزی لیڈی وائس پریزیڈنٹ شبانہ افضل، کراچی ریجن کے صدر رسول قاضی، حیدرآباد ریجن کے صدر حلیم درس، سکھر ریجن کے صدر ڈاکٹر ملھار سندھی اور دیگر رہنماؤں نے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

سپلا کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے اساتذہ کے حقوق کو مسلسل نظرانداز کیا ہے، اور تعلیمی بورڈز میں بیوروکریٹس کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی بورڈز کے امور کو کامیابی سے چلانے کا تجربہ صرف اساتذہ کا ہے، جو اپنے تدریسی اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر ان عہدوں کو بخوبی سنبھالتے آئے ہیں۔

سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں بیوروکریٹس (کمشنرز) کو تعلیمی بورڈز میں چیئرمین تعینات کرنے کا تجربہ ناکام ثابت ہوا تھا، جس کے نتیجے میں نہ صرف نتائج میں تاخیر ہوئی بلکہ بورڈز کے کام میں بھی مسائل پیدا ہوئے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس معاملے پر کمشنرز کی تعلیمی بورڈز میں تقرری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ تجربہ پہلے ہی ناکام ہوچکا ہے اور ہائیکورٹ بھی اس کی مخالفت کر چکی ہے تو سندھ حکومت اس فیصلے کو کیوں دہرا کر تعلیمی بورڈز کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے پہلے ہی قواعد کے برخلاف تعلیمی بورڈز میں چیئرمین، ناظم امتحانات اور سیکرٹری کے عہدوں پر تقرری کے لیے اشتہارات میں تدریسی تجربے کی شرط ختم کردی تھی، جس پر وہ پہلے بھی احتجاج کر چکے ہیں۔

سپلا کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اگر سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں بیوروکریٹس کی تقرری کی تو اساتذہ اس فیصلے کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کریں گے اور امتحانی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہ اپنے حقوق کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے۔

ہدایت: یہ خبر اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سندھ کے اساتذہ اپنے حقوق کے لیے متحد ہوچکے ہیں اور اگر بیوروکریٹس کی تقرری کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔

56 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!