مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار مریم نواز اور شہباز شریف ہوں گے، شیر افضل مروت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت نے کہا ہے کہ میں نے آج وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست دی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ہوں گی۔

’تشکر نیوز‘ کے مطابق ایف آئی اے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ آج ایف آئی اے کے دفتر پیش ہوا ہوں، ایف آئی اے حکام نے سوالات کیے، تمام جوابات دے دیے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں نے آج درخواست دی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار شہباز شریف اور مریم نواز ہوں گے، ایف آئی اے کو کہا ہے کہ اِس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ حد یہ ہے کہ میرے یہاں آنے سے پہلے مسلم لیگ (ن) والوں نے میرے خلاف درخواست دے دی کہ میرا یہ بتانا کہ میرے خلاف کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں، اِس سے اُن کی جان کو خطرہ ہوگیا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ایک شخص پاکستان سے فرار ہوکر 15 سال سے دبئی میں ہے، معلومات کےمطابق کچھ بھارتیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے کہنے پر رابطہ کیا، میرے پاس وائس میسجز اور آڈیو میسجز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں انقلاب آیا جب بالخصوص پنجاب نے اسٹیبلشمنٹ کو مسترد کیا اور پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت دی، انہوں نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا لیکن قوم نے 9 مئی اور تمام الزامات کو رد کردیا۔

15154805df389e9

 

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ایک رکن نے کچھ شواہد فراہم کیے ہیں اور اس کے بنیاد پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک پاکستانی سیاسی شخصیت نے بھارتی شخص جندال کے ذریعے قاتلوں کو مجھے مارنے کے لیے ہائر کیا ہے۔

شیر افضل مروت نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک لاکھ ڈالرز کی ادائیگی بھی کی جا چکی ہے، یہ بیان میں پوری ذمہ داری کے ساتھ دے رہا ہوں، جو شوٹرز ہیں انہوں نے آگے ادائیگی کردی ہے اور کسی بھی لمحے مجھ پر حملہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم وہ تمام شواہد ایف آئی اے کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، شواہد بتاتے ہیں کہ یہ سب کام مریم نواز کی ایما پر ہوا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ماضی میں بھی لاہور میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الزام غلط ہے وہ اس کی تفتیش کروائے، ایف آئی اے تحقیقات کروائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!