سندھ حکومت آئندہ ای وی بسیں چلائے گی، گرین لائن کے یومیہ مسافر 95 ہزار تک پہنچ گئے: شرجیل میمن

کراچی: شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کراچی سمیت پورے صوبے میں جدید اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ آئندہ سرکاری بسیں بایو گیس کے بجائے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پر چلائی جائیں گی۔

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 24 گھنٹوں میں 22 خوارج ہلاک

سندھ اسمبلی میں محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے تحت بایو گیس پلانٹ ضرور لگایا جائے گا تاہم اس کی گیس دیگر مقاصد کیلئے استعمال ہوگی، جبکہ اس منصوبے کا ٹینڈر آئندہ ماہ جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گرین لائن بس سروس پر پہلے یومیہ 50 ہزار مسافر سفر کرتے تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 95 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اورنج لائن پر بھی روزانہ 9 ہزار افراد سفر کر رہے ہیں۔

سینئر وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ پیپلز بس سروس، پنک بس اور ای وی بسوں کے تمام کنٹریکٹس شفاف انداز میں دیے گئے اور وفاقی ادارے کے ذریعے بسوں کی خریداری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ای وی بسیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائی جا رہی ہیں اور حکومت ہر بس پر سبسڈی دے رہی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت مزید 500 ای وی بسیں لانے جا رہی ہے اور متعلقہ کمپنی چارجنگ اسٹیشنز بھی قائم کرے گی جبکہ حکومت زمین فراہم کرے گی۔

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر سے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں سے این او سیز، سوئی گیس اور کے الیکٹرک کے معاملات سمیت کئی تکنیکی مسائل درپیش رہے، تاہم حکومت نیک نیتی سے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم عوام سے معذرت خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہو۔”

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کیلئے مفت پنک اسکوٹی اسکیم بھی متعارف کرا رہی ہے جبکہ حیدرآباد اور کراچی میں مزید بس روٹس اور اسٹاپس قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں ٹریفک مسائل کے حل کیلئے بڑے ہول سیل بازاروں کو شہر سے باہر منتقل کرنے اور جدید ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

One thought on “سندھ حکومت آئندہ ای وی بسیں چلائے گی، گرین لائن کے یومیہ مسافر 95 ہزار تک پہنچ گئے: شرجیل میمن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!