کراچی: این ڈی سی (قومی ڈائیلاگ کونسل) کے زیر اہتمام کراچی میں قومی اتحاد کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سابق وزراء، ماہرین معیشت اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی، داخلی و خارجی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مقررین نے بالخصوص بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کے بحران، قانون و نظم کی صورتحال اور معاشی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت کی پیٹرولیم پالیسی کو عوامی مفادات کے منافی قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بوجھ عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی خطے میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
کانفرنس میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ ملکی معیشت قرضوں میں اضافہ، ٹیکسوں کے بوجھ اور پالیسی عدم تسلسل کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ مقررین نے کہا کہ پائیدار معاشی بہتری کے لیے بڑے آئینی و انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں جن میں بااختیار بلدیاتی نظام، صوبائی ڈھانچے میں بہتری، این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات اور حکومتی اخراجات میں کمی شامل ہے۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں قومی سطح پر مکالمے اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ جاری سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس حوالے سے بعض شرکاء نے زیرِ علاج سیاسی رہنماؤں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے اور سیاسی ماحول کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
کانفرنس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، شہزاد وسیم، فواد چوہدری، محمود مولوی، مفتاح اسماعیل، وسیم اختر، بابر غوری، آفاق احمد، شبر زیدی سمیت دیگر رہنما اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وسیع البنیاد قومی مکالمہ اور اصلاحاتی ایجنڈا ناگزیر ہے۔
